18 ؍ شوال المکرم 1447ھ
منگل؍ 07 اپریل 2026ء

آپ کے بیانات عرب ممالک کو دور کر رہے ہیں : واشنگٹن کی اسرائیل پر شدید تنقید

کاتز کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری کے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے

امریکی اعلیٰ حلقوں نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے اسرائیل کے مسلسل بیانات پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور انہیں  اشتعال  انگیز  قرار دیا ہے۔

عبرانی اخبار "یدیعوت آحرونوت” سے وابستہ ویب سائٹ "وائی نیٹ نیوز” کے مطابق ان حلقوں نے اسرائیلی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اہم مقام رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "وزیر دفاع يسرائیل کاتز اور دیگر کے اشتعال انگیز بیانات مشرق وسطیٰ میں جامع امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں متوقع پیش رفت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ بیانات مزید عرب ممالک کو اس منصوبے میں شامل ہونے سے دور کر رہے ہیں، لہذا فریقین پر لازم ہے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت کے لیے کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں”۔

یسرائیل کاتز نے گذشتہ منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں بستیوں کے مراکز قائم کریں گے، لیکن امریکی اعتراض کے بعد وہ اپنے اس بیان سے پیچھے ہٹ گئے اور وضاحت کی کہ ان کا مقصد عارضی فوجی رہائشی مراکز قائم کرنا ہے۔

تاہم جمعرات کو يسرائیل کاتز نے اسی طرح کے مفہوم کو دوبارہ دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ فوج غزہ کی پٹی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ بیان وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانات سے ہم آہنگ نظر آیا، جنہوں نے دوبارہ يسرائیل کاتز اور حکومت میں شامل دیگر انتہا پسندوں کے موقف کی توثیق کی اور غزہ کے بارے میں اُن کے حقیقی ارادوں کو بے نقاب کیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ آئندہ پیر کو میامی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ان سے اس بات کی منظوری مانگیں کہ "یلو لائن” کو اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان مستقل سرحد قرار دیا جائے۔ اس کا مطلب غزہ کی پٹی کے 58 فیصد حصے کو اسرائیل میں ضم کرنا اور اس پر اسرائیلی حاکمیت نافذ کرنا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ "عربوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو اسرائیلیوں کو قتل کرے گا وہ زمین سے ہاتھ دھو بیٹھے گا”۔ اس طرح بنیامین نیتن یاہو غزہ پر اسرائیلی فوج کے قبضے میں اضافے کا جواز پیش کر رہے ہیں، جو جنگ بندی کے وقت 53 فیصد تھا اور اب بڑھ کر 58 فیصد ہو چکا ہے۔

اس کے بعد وزیر دفاع يسرائیل کاتز نے جمعرات کو دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں اور اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آباد کاری کے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل غزہ کی زمین سے کبھی باہر نہیں نکلے گا” اور وہ غزہ کی پٹی کے "غلاف” میں واقع اسرائیلی قصبوں کی حفاظت کے بہانے غزہ کے اندر ایک "وسیع سکیورٹی زون” برقرار رکھے گا۔

یسرائیل کاتز نے یہ بیانات دائیں بازو کے آباد کار نواز اخبار "مکور ریشون” کے زیر اہتمام منعقدہ تعلیمی کانفرنس کے دوران کہے۔ یہاں انہوں نے آباد کار سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اگلے مرحلے میں منتقلی کے بعد بھی اور اگر حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے اور اس کی صلاحیتیں ختم کر دی جائیں، تب بھی غزہ کے اندر ایک بڑا سکیورٹی زون رہے گا۔ شمالی حصے میں، میرے وژن کے مطابق، مستقبل میں منظم طریقے سے بستیوں کے مراکز (ایسے مراکز جنہیں لڑاکا نوجوان تشکیل دیں گے) قائم کیے جا سکتے ہیں… "یہ ایک اہم کام ہے جو کرنا ہو گا”۔

اسی تناظر میں اسرائیلی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر کے فیصلے پر 14 ممالک کی مذمت کو مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ تنقید "اخلاقی غلطی” ہے اور "یہودیوں کے خلاف امتیازی سلوک پر مبنی ہے”۔

[SHORTCODE_ELEMENTOR id="5970"]
[SHORTCODE_ELEMENTOR id="6828"]