اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اُنہیں بطور جج نااہل قرار دے دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق طارق جہانگیری بطور جج تعیناتی کے وقت ایل ایل بی کی ’غیر معتبر‘ ہونے کی وجہ سے ان کی بطور جج تعیناتی غیر قانونی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ وزارت قانون کو ہدایت دی جاتی ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کو بطور جج ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔ جمعرات کو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر کملپینٹ فائل ہوئی تھی، جبکہ اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں انہیں کام سے روکنے کی درخواست بھی دائر ہوئی جو لاہور کے وکیل میاں داؤد نے کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں کام سے روکنے کا حکم جاری کیا جو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بعد ازاں معطل کر دیا تھا۔
قبل ازیں 15دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار نے ڈگری سے متعلق مکمل اوریجنل ریکارڈ پیش کیا جبکہ جسٹس طارق جہانگیری عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے عدالت کو بتایا کہ طارق محمود جہانگیری کو امتحان کے دوران نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور ایگزامنر کو دھمکیاں دینے کے باعث ان پر تین سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے ایل ایل بی کے امتحانات جعلی انرولمنٹ فارم کے ذریعے دیے اور مختلف مراحل پر اپنا نام اور ولدیت تبدیل کی تھی۔
رجسٹرار کے مطابق ایل ایل بی پارٹ ون میں طارق جہانگیری ولد محمد اکرم جبکہ پارٹ ٹو میں طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کے نام استعمال کیے گئے تھے، جبکہ انرولمنٹ نمبر بھی جعلی تھا۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلامیہ کالج کے پرنسپل کے مطابق ان کے ریکارڈ میں طارق جہانگیری نام کا کوئی طالب علم کبھی زیرِ تعلیم نہیں رہا۔
رجسٹرار کے مطابق اگرچہ طارق محمود سن 1992 میں دوبارہ امتحان دینے کے اہل تھے، لیکن ریکارڈ میں وہ 1990 میں تمام پرچوں میں کامیاب ظاہر کیے گئے، جس نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھایا۔
وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر سندھ ہائیکورٹ میں کارروائی معطل ہے اور آرٹیکل دس اے کے تحت شفاف ٹرائل ان کا بنیادی حق ہے، اس لیے انہیں مکمل دلائل کا موقع دیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت مناسب موقع فراہم کرے گی۔
دوسری جانب درخواست گزار میاں داود نے عدالت میں بیان دیا کہ جسٹس طارق جہانگیری نے عدالت میں جھوٹی قسم اٹھائی۔
انہوں نے قرآن پر حلف دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جسٹس جہانگیری کی ڈگری بوگس ہے اور یہاں تک کہ انرولمنٹ فارم بھی جعلی تھے۔