غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح … اسرائیل...
Study time 3 minutes غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح ... اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد
حماس کے ذمے دار کے مطابق غزہ کے اندر سکیورٹی فلسطینی افراد سنبھالیں گے جب کہ بین الاقوامی فورس اسرائیل کے ساتھ سرحد کی نگرانی کرے گی
اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق تل ابیب نے امریکیوں کو واضح کر دیا ہے کہ بین الاقوامی فورس میں ترکیہ اور قطر کی شمولیت اسرائیل کے لیے "سرخ لکیر” ہے … اور وہ اسے قبول نہیں کرے گا۔
اس ذریعے نے رائے دی کہ اس طرح کی شمولیت حماس کی موجودگی کو مستحکم کرے گی اور اسے غیر مسلح ہونے سے روکے گی۔ مزید یہ کہ اسرائیل ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں جانا چاہتا ہے، لیکن سب سے پہلے اسے غزہ میں آخری قیدی کی لاش ملنی چاہیے۔
دوسری جانب حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے صحافتی بیان میں اعلان کیا کہ تنظیم غزہ میں تعینات ہونے والی بین الاقوامی فورس میں دوست ممالک کی موجودگی کو ترجیح دیتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک کا اس بین الاقوامی فورس میں شامل ہونا مشکل ہے۔
بدران نے زور دیا کہ فلسطینی افراد غزہ کے اندر سکیورٹی کی ذمے داری سنبھالیں گے، جبکہ غیر ملکی فریقوں کو اسرائیل کے ساتھ سرحدوں کی نگرانی کرنا چاہیے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اسرائیل نے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے کمانڈر "رائد سعد” کو قتل کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس پہلے سے ہی کام کر رہی ہے اور اس میں مزید ممالک شامل کیے جائیں گے۔
Study time 3 minutes غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح ... اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کر رہے ہیں: ٹرمپ [SHORTCODE_ELEMENTOR id="5906"]امریکی
نیتن یاہو اور امریکی ایلچی" ٹوم براک" کے درمیان شام کے حوالے سے مفاہمت ذرائع کے مُطابق اسرائیلی وزیر اعظم
Study time 3 minutes غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح ... اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کر رہے ہیں: ٹرمپ [SHORTCODE_ELEMENTOR id="5906"]امریکی
نیتن یاہو اور امریکی ایلچی" ٹوم براک" کے درمیان شام کے حوالے سے مفاہمت ذرائع کے مُطابق اسرائیلی وزیر اعظم