18 ؍ شوال المکرم 1447ھ
منگل؍ 07 اپریل 2026ء

غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب ابراہم معاہدے کا حصہ بننا نہیں، ترجمان دفتر خارجہ

[SHORTCODE_ELEMENTOR id="5906"]

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے تناظر میں کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف بدستور واضح ہے اور ’ہم ابراہم معاہدے کے فریق نہیں بنیں‘ گے۔ پاکستان نے غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اسلام آباد آزاد فلسطین کا حامی ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق بتایا کہ پاکستان نے خلوصِ نیت سے اس فورم میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پاکستان سمیت 7 دیگر اہم مسلم ممالک بھی اس بورڈ کا حصہ بنے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانا ہے، بورڈ آف پیس کا دوسرا مقصد غزہ کی تعمیر نو میں معاونت ہے، تیسرا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت پر مبنی دیرپا امن کا قیام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس سے متعلق ابراہیم اکارڈ کے الزامات بے بنیاد ہیں، غزہ بورڈ آف پیس کا ابراہیم اکارڈ سے کوئی تعلق نہیں، بورڈ آف پیس کے فریم ورک پر عملدرآمد کے لیے پاکستان پُرامید ہے، پاکستان 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا حامی ہے، آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دو برس سےغزہ کے عوام شدید تباہی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، اقوام متحدہ کی کوششیں اسرائیلی جارحیت روکنے میں ناکام رہیں، بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری حاصل ہے، بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون پلیٹ فارم ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے جمعرات کو ایران کے مسئلے کو ’سفارت کاری‘ سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد تہران کے خلاف طاقت کے استعمال کے مخالف ہے۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا: ’پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ہم طاقت کے استعمال کے بھی مخالف ہیں اور پابندیوں کے نفاذ کی بھی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس حوالے سے ہمارا مؤقف بدستور برقرار ہے۔‘ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خطہ کسی بھی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہو گا۔ جس پر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’فوجی دھمکیوں کے ذریعے سفارت کاری مؤثر یا سودمند ثابت نہیں ہو سکتی۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ رواں ہفتے صدر مملکت متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ، مضبوط اور دوستانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان سے متعلق ٹریول ایڈوائزری کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس سے مزید غیر ملکی اور پاکستانی شہری پاکستان کا سفر کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی ٹریول ایڈوائزری میں پاکستان کو ایک محفوظ ملک کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے جو ایک اہم پیش رفت ہے۔

[SHORTCODE_ELEMENTOR id="5970"]
[SHORTCODE_ELEMENTOR id="6828"]
[SHORTCODE_ELEMENTOR id="5906"]