ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت سنجیدہ اور حقیقی ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نوعیت کے مذاکرات چاہتے ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جنگ تو شروع کر سکتے ہیں مگر وہ نہ اس پر قابو پا سکیں گے اور نہ ہی اسے ختم کر سکیں گے۔
انہوں نے آج بروز جمعرات امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے ماحول میں مذاکرات کشیدگی کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری حقیقی ہونی چاہیے جو باہمی احترام پر مبنی ہو اور اس کے ساتھ واضح ضمانتیں بھی دی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایرانی عوام کے معاشی مفادات کی ضمانت نہیں دی جاتی اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات کی گنجائش نہیں کیونکہ ہم احکامات کو مذاکرات نہیں سمجھتے۔
قالیباف نے کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی نوبل امن انعام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے اردگرد موجود جنگ کے حامیوں سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔
گذشتہ ہفتوں کے دوران ایران میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق سوال پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک منصوبہ مکمل طور پر بیرون ملک تیار کیا گیا تھا جس کے پیچھے بیرونی عناصر کارفرما تھے۔
انہوں نے واقعات کے ذمہ داران کے خلاف فوری مقدمات چلانے کا وعدہ کیا اور خبردار کیا کہ حکومت احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے تقریباً 300 سکیورٹی اہلکاروں کے خون کا بدلہ لینے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔
اگرچہ قالیباف نے ملک کے اندر معاشی مسائل کا اعتراف کیا اور کہا کہ ان میں سے کچھ بدانتظامی کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں تاہم انہوں نے اصل ذمہ داری امریکی پابندیوں کے باعث عائد کی جانے والی جابرانہ دباؤ پر ڈال دی۔
خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے محمد باقر قالیباف نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اگر ایران پر کوئی حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا جس سے ہزاروں امریکی فوجی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاید صدر ٹرمپ جنگ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں مگر وہ اس بات پر قابو نہیں رکھ سکتے کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہو گی۔
نیز یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے اور ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ عسکری کارروائی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال گذشتہ ماہ کے آخر میں ایران بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد پیدا ہوئی جن کے دوران ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے۔