18 ؍ شوال المکرم 1447ھ
منگل؍ 07 اپریل 2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری 'غیر معتبر ڈگری' کی وجہ سے نااہل قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اُنہیں بطور جج نااہل قرار دے دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق طارق جہانگیری بطور جج تعیناتی کے وقت ایل ایل بی کی ’غیر معتبر‘ ہونے کی وجہ سے ان کی بطور جج تعیناتی غیر قانونی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ وزارت قانون کو ہدایت دی جاتی ہے کہ جسٹس طارق جہانگیری کو بطور جج ڈی نوٹیفائی کیا جائے۔ جمعرات کو چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

 

جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر کملپینٹ فائل ہوئی تھی، جبکہ اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ میں انہیں کام سے روکنے کی درخواست بھی دائر ہوئی جو لاہور کے وکیل میاں داؤد نے کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں کام سے روکنے کا حکم جاری کیا جو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بعد ازاں معطل کر دیا تھا۔

قبل ازیں 15دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار نے ڈگری سے متعلق مکمل اوریجنل ریکارڈ پیش کیا جبکہ جسٹس طارق جہانگیری عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

رجسٹرار کراچی یونیورسٹی نے عدالت کو بتایا کہ طارق محمود جہانگیری کو امتحان کے دوران نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور ایگزامنر کو دھمکیاں دینے کے باعث ان پر تین سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے ایل ایل بی کے امتحانات جعلی انرولمنٹ فارم کے ذریعے دیے اور مختلف مراحل پر اپنا نام اور ولدیت تبدیل کی تھی۔

 

رجسٹرار کے مطابق ایل ایل بی پارٹ ون میں طارق جہانگیری ولد محمد اکرم جبکہ پارٹ ٹو میں طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کے نام استعمال کیے گئے تھے، جبکہ انرولمنٹ نمبر بھی جعلی تھا۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلامیہ کالج کے پرنسپل کے مطابق ان کے ریکارڈ میں طارق جہانگیری نام کا کوئی طالب علم کبھی زیرِ تعلیم نہیں رہا۔

رجسٹرار کے مطابق اگرچہ طارق محمود سن 1992 میں دوبارہ امتحان دینے کے اہل تھے، لیکن ریکارڈ میں وہ 1990 میں تمام پرچوں میں کامیاب ظاہر کیے گئے، جس نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھایا۔

وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر سندھ ہائیکورٹ میں کارروائی معطل ہے اور آرٹیکل دس اے کے تحت شفاف ٹرائل ان کا بنیادی حق ہے، اس لیے انہیں مکمل دلائل کا موقع دیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت مناسب موقع فراہم کرے گی۔

دوسری جانب درخواست گزار میاں داود نے عدالت میں بیان دیا کہ جسٹس طارق جہانگیری نے عدالت میں جھوٹی قسم اٹھائی۔

انہوں نے قرآن پر حلف دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جسٹس جہانگیری کی ڈگری بوگس ہے اور یہاں تک کہ انرولمنٹ فارم بھی جعلی تھے۔

گذشتہ سے پیوستہ

گذشتہ برس جون میں کراچی کے شہری عرفان مظہر کی جانب سے طارق محمود جہانگیری کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کی گئی شکایت میں بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ جج کی قانون کی ڈگری جعلی ہے اور جامعہ کراچی نے ان کی ڈگری کی توثیق نہیں کی کیونکہ ان کے رول نمبر میں بھی تضاد ہے۔

سوانحی خاکہ طارق جہانگیری

جسٹس طارق محمود جہانگیری پاکستان تحریک انصاف کے دور میں 28 دسمبر 2020 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔ ان کی پروفائل کے مطابق انہوں نے کراچی یونیورسٹی کے اسلامیہ لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں مختلف عدالتی عہدوں پر فائز رہے اور فوجداری معاملات میں مہارت رکھتے ہیں۔

ان کی عدالتی خدمات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مقدمات، بلینکٹ پروٹیکشن کیسز شامل ہیں۔ جبکہ انہوں نے فوج کے خفیہ اداروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق خطوط بھی لکھے ہیں۔

جسٹس جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججز میں شامل تھے جنہوں نے گزشہ برس مارچ میں سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک مشترکہ خط لکھ کر عدالتی امور میں خفیہ ایجنسیوں بالخصوص آئی ایس آئی کی مداخلت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز کی جانب سے خفیہ اداروں کے خلاف لکھے جانے والے خط کے بعد جامعہ کراچی میں ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی جس میں آئین کے آرٹیکل 19 اور سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے تحت جسٹس طارق محمود جہانگیری کا تعلیمی ریکارڈ حاصل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

latest News

غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح … اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد کر دیا

Study time 3 minutes غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح ... اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد کر دیا حماس کے ذمے دار کے مطابق غزہ کے اندر سکیورٹی فلسطینی افراد سنبھالیں گے جب کہ بین الاقوامی فورس اسرائیل کے ساتھ سرحد کی نگرانی کرے گی اسرائیلی سیاسی

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کر رہے ہیں: ٹرمپ

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کر رہے ہیں: ٹرمپ [SHORTCODE_ELEMENTOR id="5906"]امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی انتظامیہ اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی خلاف

نیتن یاہو اور امریکی ایلچی” ٹوم براک” کے درمیان شام کے حوالے سے مفاہمت

نیتن یاہو اور امریکی ایلچی" ٹوم براک" کے درمیان شام کے حوالے سے مفاہمت   ذرائع کے مُطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی ایلچی ٹوم براک شام کے حوالے سے مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں۔اسرائیلی خبر رساں اِدارےکے مطابق اسرائیل اور امریکہ اس مفاہمت تک پہنچے ہیں جو

Famous News

غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح … اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد کر دیا

Study time 3 minutes غزہ فورس میں دوست ممالک حماس کی ترجیح ... اسرائیل نے قطر اور ترکیہ کو مسترد کر دیا حماس کے ذمے دار کے مطابق غزہ کے اندر سکیورٹی فلسطینی افراد سنبھالیں گے جب کہ بین الاقوامی فورس اسرائیل کے ساتھ سرحد کی نگرانی کرے گی اسرائیلی سیاسی

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کر رہے ہیں: ٹرمپ

اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزی کی جانچ کر رہے ہیں: ٹرمپ [SHORTCODE_ELEMENTOR id="5906"]امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی انتظامیہ اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی خلاف

نیتن یاہو اور امریکی ایلچی” ٹوم براک” کے درمیان شام کے حوالے سے مفاہمت

نیتن یاہو اور امریکی ایلچی" ٹوم براک" کے درمیان شام کے حوالے سے مفاہمت   ذرائع کے مُطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی ایلچی ٹوم براک شام کے حوالے سے مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں۔اسرائیلی خبر رساں اِدارےکے مطابق اسرائیل اور امریکہ اس مفاہمت تک پہنچے ہیں جو